انجمن غلامانِ مصطفی ﷺ کی تعلیمی و سماجی خدمات کا جائزہ

انجمن  غلامانِ مصطفی ﷺ

انجمن  غلامانِ مصطفی ﷺ
کی تعلیمی و سماجی خدمات کا جائزہ
فعل الحکیم لا یخلو عن الحکمۃ‘‘ کے مصداق خالق کائنات کی تخلیق کا کوئی ذرہ بھی بے مقصد اور بے کار نہیں ہے۔ علیم وحکیم خالق کائنات نے حضرت انسان کے سر پر ’’لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم‘‘ کا سہرہ سجایا۔ بعد ازاں ’’افحسبتم انما خلقنکم عبثا‘‘(کیا تم نے یہ گمان کرلیا کہ ہم نے تمہیں بے کار پیداکیا) کے تہدیدی کلمات سے اس کے ضمیر کو جھنجوڑا اور پھر ’’وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون‘‘کے کلمات طیبات سے اس کو بھولا ہوا سبق یاد دلایا۔ رأس المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے لیعبدون کی تفسیر لیعرفون سے کی ہے یعنی معرفت الہٰی ہی تخلیق جن وانس کا مقصد حیات ہے اور معرفت الہٰی ’’بے علم نتواں خدا را شناخت‘‘ کی روشنی میں حصولِ علم کے بغیر ناممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کو معرفت الہٰی کے انوار سے منور کرنے والے گروہ کے سردار امام الانبیاء ﷺ نے اپنا تعارف ’’انما بعثت معلما‘‘کے دل نشین الفاظ سے کرایا۔ جب سلسلہ رسالت کا اختتام ہوا تو بھٹکی ہوئی مخلوق کو خدا شناس کرنے کی ذمہ داری امت محمدیہ کے علماء کو سونپی گئی۔
’’العلماء ورثۃ الانبیاء‘‘ اور ’’علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل‘‘ کے پرنور فرامین اسی روشن حقیقت پر دال ہیں۔
جس طرح دورِ نبوی میں متلاشیانِ حق ومعرفت کو فیض علم وحکمت درس گاہ صفہ سے حاصل ہوتا تھا اسی طرح اس کے بعد مختلف ادوار میں مختلف علاقوں میں ایسی بے مثال درس گاہیں قائم ہوئیں جو تشنگانِ علم وحکمت کی سیرابی کی خدمات سرانجام دیتی رہیں اور ان درسگاہوں کی سرپرستی یہی خوش قسمت گروہ کرتا رہا۔ گردشِ ایام کے ساتھ جب انسان کی تساہل پسندی میں اضافہ ہوا تو ان دور اندیش حضرات کی فکر رسانے محسوس کیا کہ مستقل اداروں کے بغیرعلم وحکمت کی اشاعت وتدریس کا فریضہ سرانجام دینا ناممکن ہے۔ چنانچہ اس ضرورت کے پیش نظر مستقلبنیادوں پر مدارس اور یونیورسٹیوں کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوا اور کوفہ، بغداد، قرطبہ، اندلس اور مصر جیسے اسلامی مراکز میں عظیم یونیورسٹیاں تشنگان علم وحکمت کی سیرابی کا فریضہ سرانجام دینے لگیں۔ ماضی قریب میں ایسے علمی مراکز کے ذریعے امت مسلمہ میں فیض علم وحکمت بانٹنے والے اصحاب علم ودانش میں ایک تابندہ نام ضیاء الامت حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے جنہوں نے ایک ماہر نباض کی حیثیت سے مدارس دینیہ میں پڑھائے جانے والے قدیم علوم کے ساتھ جدید علوم کی تعلیم وتدریس کو بھی شامل نصاب کیا۔ نتیجتاً آپ کے دینی مدرسہ ’’دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف‘‘ میں ایک طالب علم قرآن وحدیث، فقہ، کلام اور علم المعانی جیسے علوم کے ساتھ ساتھ سیاسیات، معاشیات جیسے جدید علوم سے بھی بہرہ ور ہو کے جہاں ایک طرف دین اسلام کی اشاعت وتبلیغ کا فریضہ سرانجام دیتا ہے وہاں دوسری طرف ملک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بحمدہٖ تعالیٰ جب اس عظیم علمی مرکز کے فیض یافتگان نے میدان علم میں قدم رنجہ فرمائے تو دیگر ہم عصر اکابرین بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ علوم قدیمہ کے ساتھ ساتھ علوم جدیدہ کی تعلیم وتدریس بھی وقت کا اہم تقاضا ہے ۔ چنانچہ بے شمار دینی مدارس میں علوم قدیمہ کے ساتھ علوم جدیدہ سے بھی استفادہ کیاجانے لگا۔
حضرت ضیاء الامت کا یہ فیض علم وحکمت صرف ’’دارالعلوم محمدیہ غوثیہ کی چار دیواری میں محصور نہ رہا بلکہ پاکستان حتیٰ کہ دنیا بھر میں بے شمار فلاحی ادارے، دینی تنظیمیں اور سماجی انجمنیں آپ کے اس عظیم مرکز علمی سے وابستہ ہو کر خدمت دین کا فریضہ سرانجام دینے کے لیے علم کے دیپ جلا کر جہالت کے اندھیروں کو دور کرتی ہوئی نظر آنے لگیں۔ انہی ایام میں ضلع جہلم کی پسماندہ تحصیل پنڈدادنخان میں چند محبانِ خدا اور عاشقانِ رسول ﷺ نے لیلۃ المعراج (بمطابق 5مئی1972ء) کی مبارک ساعتوں میں انجمن غلامان مصطفی ﷺ کے نام سے ایک دینی، سماجی اور معاشرتی تنظیم کی بنیاد رکھی اور دینی، تعلیمی اور سماجی خدمات دینے کا بیڑہ اٹھایا۔ اس عظیم دینی تحریک نے بھی تعلیمات دینیہ کی اشاعت وتدریس کے لیے حضرت ضیاء الامت کی عظیم تحریک سے وابستگی اختیار کرکے علم وحکمت، دعوت عشق خیر الانام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صدائے دل نواز، عظمت اہل بیت اطہار وحب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، محبت اولیائے کرام رحمۃ اللہ علیہم کی ’’نوائے حق‘‘ کو گلی گلی، نگر نگر، کوچہ کوچہ، قریہ قریہ ،بستی بستی، سوبہ سو، کو بہ کو، شہر بہ شہر پہنچانے کے لیے دارالعلوم محمدیہ رضویہ کے نام سے ایک عظیم تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی۔ حضرت ضیاء الامت نے اس دارالعلوم کا افتتاح بذاتِ خود فرما کر اپنی دعاؤں سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ عظیم تعلیمی ادارہ اپنے یومِ تاسیس سے تاحال مسلسل ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔
حضرت ضیاء الامت کے فیض یافتہ ملک کے نامور عالم دین خطیب العصر مولاناپیر محمد انور قریشی ہاشمی مد ظلہ العالی خلیفہ مجاز بھیرہ شریف اس ادارے کی سربراہی فرمارہے ہیں۔ دارالعلوم ہٰذا میں مڈل پاس طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے اور دارالعلوم بھیرہ شریف کے نصاب کے مطابق ادیب عربی، عالم عربی اور فاضل عربی کے علاوہ میٹرک، ایف اے اور بی اے تک تعلیم دی جاتی ہے۔
اس وقت 465شاہین صفت طلبہ دارالعلوم ہٰذا سے تکمیل علم کے بعد دین وملت کے لئے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ دارالعلوم محمدیہ رضویہ کے فارغ التحصیل طلباء نے اپنی
تنظیم ’’بزم الکرم‘‘ کے نام سے قائم کی ہے۔ بزم الکرم کے زیر انتظام ایک تبلیغی واصلاحی سہ ماہی مجلہ ’’نوائے حق‘‘ کا اجراء کیا گیا ہے جس کی اشاعت باقاعدگی سے جاری ہے۔
اس وقت دارالعلوم محمدیہ رضویہ میں0 40طلباء زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں جن کے قیام وطعام کے تمام اخراجات انجمن غلامان مصطفی ﷺ ہی برداشت کرتی ہے۔ اراکین انجمن کی انتھک محنت اور اساتذہ دارالعلوم کی مخلصانہ کاوشوں نے دارالعلوم کو ایک بلند مقام تک پہنچادیا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت دارالعلوم کی نمایاں کارکردگی پر مشتمل تعلیمی ریکارڈ ہے۔ 1992ء میں میٹرک کے امتحان میں محبوب عالم نے راولپنڈی بورڈ میں پہلی، 1997ء میں تصور حسین نے بھی پہلی اور قاری سعید احمد نے تیسری اور خضرحیات  مرحوم نے چوتھی،2000ءمیں محمد مدثر ریاض نے چوتھی،2002میں حافظ ندیم اصغر نے چوتھی، 2003ء میں عظمت محمود نے پہلی، محمد احمد نے دوسری اور حافظ محمد نجابت نے راولپنڈی بورڈ میں میٹرک کے امتحان میں تیسری اور محمد مدثر ریاض نے فاضل عربی (راولپنڈی بورڈ) میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ 2005ء بھی حافظ محمد نجابت نے ایف اے کے امتحان میں تیسری پوزیشن حاصل کر کے اپنی مادرِ علمی کے وقار کو بلند رکھا 2005ء میں محمد طارق نے راولپنڈی بورڈ میں میٹرک کے امتحان میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 2006ء میں میٹرک کے امتحان میں قاضی کامران رسول نے پہلی اور عارف محمود نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ 2007ء میں میٹرک کے امتحان میں محمد شریف نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور 2009میں حافظ محمد ضیاء الکرم نے تیسری پوزیشن حاصل کرکے ادارہ کا سابقہ اعزاز بحال رکھا جبکہ مجموعی رزلٹ 100فیصد رہا۔ 2009میں پہلی مرتبہ دارالعلوم ہذاکے طلباء نے پنجاب یونیورسٹی میں ”بی اے ”کا امتحان دیا بحمد اللہ تعالیٰ دارالعلو م کا رزلٹ 65فی صد رہا جب کہ 2010,2011میں میٹرک کا رزلٹ 100%رہا2012میں سعید زبیر نے راولپنڈی بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور2013,2014,2015,2016میں مجموعی رزلٹ 100%رہا۔
اس شاندار کامیابی پر ہم اپنے تمام معاونین ومحسنین ،پرنسپل حضرت علامہ پیر محمد انور قریشی  ھاشمی صاحب جملہ اساتذہ کرام طلباء اور ان کے والدین کو خلوص دل سے ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں ۔
دارالعلوم ہٰذا کے علاوہ انجمن غلامانِ مصطفی ﷺ کے زیر اہتمام اُمت مسلمہ کی نو خیز بچیوں کی تعلیم وتربیت کے لیے ایک عظیم تعلیمی وتربیتی ادارہ ’’جامعہ سیدہ خدیجتہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا‘‘15جولائی 2002ء سے مصروفِ عمل ہے جہاں اس وقت 200طالبات زیر تعلیم ہیں۔
مزید برآں پنڈدادنخان شہر کی قدیم جامع مسجد ’’مسجد امیر حمزہ‘‘ بھی انجمن ہٰذا کے زیر اہتمام ہے بلکہ یہی مسجد اس انجمن کا ہیڈ کوارٹر ہے اور اس مسجد میں ’’دارالعلوم محمدیہ رضویہ‘‘ کاشعبہ حفظ قائم ہے جس میں ننھے نونہالوں کے قلوب کونورِ قرآن سے منور کیا جارہا ہے۔ اس وقت شعبہ حفظ میں128طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
بحمدہٖ تعالیٰ 619حفاظِ قرآن یہاں سے قرآن مجید کے زیور سے آراستہ ہو کر ملک وبیرون ملک میں خدمت دین کا فریضہ سرانجام دے رہیں۔ علاوہ ازیں انجمن ہٰذا دیگر کئی مساجد کی کفالت بھی کررہی ہے۔ انجمن کے دیگر شعبہ جات میں شعبہ دعوت وتبلیغ بھی ہے جس کے تحت اہم اسلامی ایام میں اجتماعات منعقد ہوتے ہیں اور مختلف مساجد میں ہفتہ وار، ماہانہ اور سالانہ پروگراموں کا انعقاد کیاجاتا ہے۔
انجمن کا ایک شعبہ بیت المال ہے جو معاشرے کے غریب اور بے سہارا لوگوں کی مالی اعانت وامداد کے متعلق ہے۔ پنڈدادنخان نشیبی اور سیلابی علاقہ ہونے کی وجہ سے اکثر آفات سے دوچار رہتا ہے۔ انجمن غلامانِ مصطفی ﷺ1992ء کے قیامت خیز سیلاب اور اس کے بعد 1995ء اور 1997ء کے سیلاب کے دورانِ سیلاب زدگان کو آٹا ، گھی، دالیں اور دیگر ضروریاتِ زندگی کے ساتھ ساتھ مکانوں کی مرمت کے لئے بھی امداد مہیا کرچکی ہے۔ غریب
اور نادار ضعیف العمرافراد کو ماہانہ امداد دی جارہی ہے جبکہ ہر سال رمضان المبارک میں الحاج خواجہ عبدالرؤف اینڈ سنز لاہور کے تعاون وسرپرستی سے تقریباً 500گھرانوں کو تقریباً 15دنوں کا راشن سحری وافطاری کے لیے مہیا کیا جاتا ہے۔ اس شعبہ کے تحت سالانہ فری آئی کیمپ کا انعقاد کرکے لوگوں کو ’’آنکھوں کا نور‘‘ مفت تقسیم کیا جاتاہے۔ یہ کیمپ گزشتہ 24 سالوں سے پنڈدادنخان کے مایہ ناز سپوت اور خدیجہ صدیق ویلفیئر ٹرسٹ کے بانی وچیئرمین الحاج خواجہ عبدالرؤف وھرہ صاحب کے تعاون سے مسلسل لگایا جاتاتھااور ان کے پسران بھی اس کیمپ سے مکمل تعاون و سرپرستی کر رہے ہیں ۔ ان فقید المثال کیمپوں میں اب تک 86902 مریضوں کا چیک اپ کیا جاچکا ہے جبکہ ابتک 7065کامیاب آپریشن کیے گئے۔ انجمن ہٰذا کے زیر اہتمام لگائے جانے والے کیمپوں میں اب تک تقریباً 109لاکھ کی خطیر رقم صرف کی جاچکیہے۔ اس کیمپ کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مریضوں کا مفت طبی معائنہ ادویات رہائش خوراک کے ساتھ ساتھ آپریشن کے مریضوں کے لیے آپریشن کے دن تک کی ادویات اور مفت عینک کی فراہمی کی سہولیات دی جاتی ہیں۔اس سال بھی 25واں سالانہ فری آئی کیمپ 4-5-6نومبر 2016میں انعقاد پذیر ہورہا ہے (انشاء اللہ العزیز )۔
اس پسماندہ علاقہ میں اتنے وسیع پیمانے پر کام کرتے ہوئے اب انجمن کو چند مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ دارالعلوم میں طلبہ کے لیے انتہائی نایاب کتب کے ذخیرے والی لائبریری موجود ہے جس کو وقت کے تقاضوں کے پیش نظر وسعت کی اشد ضرورت ہے۔ بلند تعلیمی معیار کی بنیاد پر طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے رہائشی کمروں کی تعداد بھی کم ہے دارالعلوم کے دونوں اطراف سڑکیں بلند ہونے کی وجہ سے دارالعلوم کی عمارت انتہائی پستہ ہو چکی ہے جسکو گرا کر از سر نو تعمیر کا کام بھی بتدریج جاری ہے جس کی کمی کو پورا کرنا اس عظیم علمی تحریک کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اس دور میں سرمائے کی فراہمی کے بغیر ان عظیم منصوبہ جات کو پورا کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ لہٰذا اصحاب ثروت کی مذہبی واخلاقی ذمہ داری ہے وہ اپنی
آخرت کو سنوارنے کے لیے علوم اسلامیہ جدید دو قدیمہ کی نشر واشاعت اورتعلیم وتدریس کے اس کارِخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنی دعاؤں سے نوازتے ہوئے مالی تعاون فرمائیں تاکہ اشاعت دین کے لیے پر عزم اراکین انجمن اور اساتذہ دارالعلوم دلجمعی کے ساتھ اس کارِ خیر کو آگے بڑھاتے چلے جائیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انجمن کے اراکین ومتعلقین کو مزید جوش وولولہ کے ساتھ خدماتِ دین سرانجام دینے کی ہمت وحوصلہ عطا فرمائے اور دارالعلوم محمدیہ رضویہ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطافرمائے۔
آمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلینﷺ