تحریک حی الفلاح

تحریک حی الفلاح

نوجوان ملت اسلامیہ کا ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر ان کی تربیت اسلامی خطوط پر کی جائے تو نہ صرف اسلام کے جانثار بن کر اس کی کھوئی ہوئی عظمت کو واپس لاسکتے ہیں بلکہ اسلامی اخلاق کے زندہ پیکر بن کر وہ مثالی معاشرہ بھی قائم کرسکتے ہیں جس کی بنیاد خوفِ الہٰی اور حب رسول ﷺ پر رکھی گئی ہو اورجس میں ہرفردسیاہ ہویا سفید، طاقتور ہو یا کمزور، آقا ہو یا غلام، قلبی سکون سے زندگی بسر کرنے کا حق رکھتا ہو جہاں خوشحالی کا دور ہو توسب کے سب اس میں برابر کے شریک ہوں اور تکلیف آئے تو سبھی مل کر جھیلیں۔ مگر افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ امت مسلمہ کے نوجوان اسلامی معاشرہ کے قیام کی جدوجہد میں شریک ہونے کی بجائے اپنی قوت لادینی تحریکوں میں صرف کررہے ہیں۔ غیر اسلامی نظام تعلیم اور مغربی تہذیب کی فریب کاری نے ان کا اندازِ فکر بدل دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نوجوان کئی کئی گھنٹے سینما ہالوں اور تفریح گاہوں میں صرف کردیتے ہیں لیکن مساجد کو آباد کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ مغربی تہذیب کی تقلید اور فیشن پرستی پر اندھا دھند جھولیوں دولت لٹاتے ہیں لیکن اسلام کی راہ میں ایک پائی تک خرچ کرنے کا حوصلہ نہیں پاتے۔
کاش۔۔۔!!! اسلام کے یہ سپوت محسوس کریں کہ کفر مسلسل چودہ سو سال سے ان کی سچائی کی شمع فروزاں کو ہمیشہ کے لیے بجھا دینا چاہتا ہے۔ ملت کے نوجوان کو مست فلمی دھنوں نے کشمیر وفلسطین کی بہو، بیٹیوں کی آہ وبکا سننے سے بے نیاز کردیا ہے۔ جو فلمی کھیلوں میں اس قدر کھو گیا ہے کہ اس کو قبلہ اول سے اٹھنے والے شعلوں کی خبر نہیں اور جنہوں نے مغربی تہذیب کے لیے بطحا کے سبق کو بھلا دیا ہے ان بھولے ہوئے نوجوانوں کو دین مصطفیﷺ کی طرف راغب کرنے کے لیے انہیں دینی اقدار سے آراستہ کرکے پورے معاشرے کو پھر سے اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے تحریکِ حیُ علی الفلاح کا عملی طورقیام عمل میں لایا گیا ہے۔