پیرمحمد انور قریشی ہاشمی صاحب

علم و عمل کا حسین پیکر حضرت علامہ پیر محمد انور قریشی صاحب دامت برکاتھم العالیہ حضرت ضیا الامت پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کے منظور نظر
پتلامذہ میں سے ہیں ۔ حضرت ضیا ء الامت رحمۃ اللہ علیہ کی علمی،روحانی اور اصلاحی تحریک میں آپکا نام بہت نمایاں ہے ۔
آپ یکم نومبر ۱۹۵۷ ؁ء کو موضع ہاتھی ونڈ میں پیدا ہوئے۔یہ موضع بھیرہ شریف سے بھلوال روڈ پر تقریباً ۱۰ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں قبلہ والد صاحب سے حاصل کی ۔
مڈل/میٹرک کے امتحانات پاس کرنے کے بعد ۱۹۷۳ ؁ء میں آپ حضرت ضیاء الامت کی بارگاہ میں حاضرہوئے اور دارالعلوم محمدیہ غوثیہ میں داخلہ لے لیا۔
آپ کوزمانہ طالبعلمی ہی سیحضرت ضیا الامت پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی خصوصی نگاہ محبت و شفقت میسر رہی۔حضرت ضیا الامت رحمۃ اللہ علیہ نے جہاں آپکو بے پناہ محبت وشفقت سے نوازا وہاں روحانی مرشد کریم ہونے کے ناطے آپکی ظاہری و باطنی تعلیم وتربیت ،آداب معاشرت،تعمیر کردار اور تہذیب اخلاق کی طرف بھی بھر پور توجہ دی۔
چنانچہ زمانہ طالبعلمی ہی سیحضرت ضیا الامت رحمۃ اللہ علیہ کے زیر سایہ آپ کے علمی وروحانی افکار کی تعلیم و ترویج میں بھر پور کردار ادا کرنے کو شرف حاصل رہا۔
۱۹۸۱ ؁ء میں جب انجمن غلامان مصطفی ﷺ کے ممبران اورپنڈدادن خان کی عوام اہلسنت کا نمائندہ ایک گروہ حضرت ضیا الامت رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اورعرض کی کہ اپنے شاگردان رشید میں سے کسی صاحب علم ونظر شخص کو ہمارے ساتھ بھیجیں جو ہماری قدیمی مسجد قصاباں والی (جس کانام بعد میں مسجدسیدنا حضرت امیر حمزہ رکھ دیا گیا)میں خطابت کے ساتھ ساتھ اہلیان علاقہ کی علمی ،عملی،روحانی اور اخلاقی اصلاح کا فریضہ بھی سر انجام دے تو حضرت ضیا الامت رحمۃ اللہ علیہ کی نگاہ انتخاب آپ پرپڑی۔
حضرت ضیا الامت رحمۃ اللہ علیہ کے حکم سے آپ ۱۹۸۱ ؁ء میں پنڈ دادن خان تشریف لائے،آپکا یہاں تشریف لانا مبارک ثابت ہوا ،آپکے وجود کی برکت اور حکمت و موعظت کے اثر سے جامع مسجد امیر حمزہ متلاشیان حق وصداقت اور طالبان راہ ہدایت کے لیے توجہ کامرکز بن گئی ،علمی وعملی اصلاح کے مختلف الجہات پروگرامز کا آغاز ہوا،قرآن کریم حفظ وناظرہ کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا ،اور ساتھ ہی مرکزی دارالعلوم محمدیہ غوثیہ کی ذیلی شاخ کے طور دار العلوم محمدیہ کی بنیاد رکھ دی گئی جلد ہی یہ مسجد اور مدرسہ دارالعلوم بھیرہ شریف کی علمی تحریک میں ایک نمایاں نام کے طور ابھر نے لگے۔
آپکی مساعی جمیلہ کی بدولت ان اداروں کو روزافزوں ترقی اور قابل رشک مقبولیت ملی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس ادارے کا شمار ملک بھر کے ممتاز دینی تعلیمی اداروں میں ہونے لگا۔
۲۰۰۰۲ ؁ء میں آپکی سرپرستی میں الکلیۃ الغوثیہ للبنات بھیرہ کی ذیلی شاخ جامعہ سیدہ خدیجۃالکبری کاآغاز ہوا یہ ادارہ بھی اپنے وقت قیام سے لے کر آج تک دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔
۲۰۰۶ ؁ء میں امین امانات حضور ضیا ء الامت حضرت صاحبزادہ پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب نے آپکو خرقہ خلافت عطا کیا اور لوگوں کی اخلاقی و روحانی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سونپی ۔
اس کے بعد عوام الناس کی فکری ،عملی روحانی اور اخلاقی اصلاح کے حوالے سے آپکی سرگرمیوں میں مزید تیزی آگئی۔ آپ نے اپنے اداروں کو اپنے تلامذہ اور وابستگان کو ایک خاموش مگر فعال اور متحرک روحانی اور اصلاحی تحریک کے طورپر پیش کرنے کا عزم بالجزم کرلیا ۔ اپنے محدود ماحول کے باوجود شریعت و طریقت کی تعلیم وتربیت اور دین متین کی اشاعت وتبلیغ کا فریضہ ایک روحانی واصلاحی تحریک کی شکل میں سر انجام دے رہے ہیں ۔
آپکے نزدیک مسجد اور مدرسہ ایک عبادت گاہ اور درسگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک روحانی تربیتی مرکز،اصلاح اعمال ، تہذیب اخلاق ،تطہیر افکار اور تزکیہ نفس کی خانقاہ کی حیثیت بھی رکھتے ہیں ۔
آپکے نزدیک ظاہری اعمال واخلاق کی درستی ،باطنی اخلاص و للہیت اور تزکیہ و محاسبہ نفس ہی مرشد روحانی کا اصل فریضہ ہے
آپ اپنی محافل ومجالس میں شرکاء کو خلوص ،للہیت، حب الہی،حب رسول،کے ساتھ ساتھ احترام انسانیت،اتحاد امت،ذکر الہی ،خوف خدا ،خدمت خلق ،اصلاح اخلاق، اتباع شریعت، رزق حلال ،صدق مقال ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تلقین کرتے ہیں ۔
اپ کی سرپرستی میں علماء کی فکری راہنمائی کے لیے بزم الکرم جبکہ عوام الناس کی روحانی و فکری اصلاح کے لیے تحریک حی علی الفلاح کے نام سے تنظیمات مختلف مقامات پر اصلاح امت کا فریضہ سر انجام دے رہی ہیں۔